دہشت پسند

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خوف و ہراس پھیلانے والا۔ "مگر ساتھ ہی اس نے فتح کو دہشت پسند گروپ کہا۔"      ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١١٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دہشت' کے ساتھ 'پسندیدن' مصدر سے فعل امر 'پسند' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر مرکب بنایا گیا۔ اردو میں ١٩٦٧ء کو "اردو دائرہ معارف اسلامیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خوف و ہراس پھیلانے والا۔ "مگر ساتھ ہی اس نے فتح کو دہشت پسند گروپ کہا۔"      ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے، ١١٣ )